
محمداعظم شاہد،بنگلورو
پچھلے چند ہفتوں سے سونیا گاندھی کی لکھی انگریزی کتاب خبروں کی سرخیوں میں ہے - ان کی لکھی کتاب BELONGING: A JOURNEY OF LOVE پہلے پینگوئین انڈیا سے شائع ہونے والی تھی،مگر اس ناشر نے مذکورہ کتاب میں شامل چند متنازع ابواب کو حذف کرنے کی تجویز سونیا گاندھی کو پیش کی- بتایا گیا کہ کتاب میں مودی حکومت کی میعاد ،آرایس ایس کارول، اقلیتوں اوربالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ناروا سلوک وامتیاز سے متعلق جو حصہ (باب) ہے ،اس کو لے کر ناشر پر دباؤ ہے کہ وہ حذف کردیا جائے، نکال دیا جائے- ناشر نے واضح نہیں کیا تھا کہ دباؤ کس نوعیت کا ہے اور کون دباؤ بنارہا ہے یا بنارہے ہیں -سونیا گاندھی نے ان تفصیلات کو کتاب سے خارج کرنے سے پوری طرح انکارکردیا - پھر ایک اور شہرۂ آفاق ناشر ہارپرکولنس نے کتاب بغیر ترمیمات کے ساتھ شائع کرنے پر رضامندی ظاہرکی اور اس طرح اب یہ خود نوشت (کتاب) 10 نومبرکو منظرعام پر آئے گی-سونیا گاندھی نے پہلی بار سوشیل میڈیا پر اپنا ایکس اکاؤنٹ (پہلے ٹوئٹر ہوا کرتا تھا) کھولا اور پہلے ہی دن اپنی کتاب کا تعارف پیش کیا اوراس کی اجرائی کی تاریخ بھی بتلائی- اٹلی سے ہندوستان تک کا سفر، راجیو گاندھی سے1965 میں برطانیہ کے کیمبرج میں ملاقات، پھر 1968 میں وزیراعظم اندراگاندھی کی سرکاری رہائش گاہ پر سادہ تقریب میں سونیا اور راجیو کی شادی اوردیگر متعلقہ واقعات کا تذکرہ اس کتاب میں شامل ہے -اپنی کتاب جو سونیا گاندھی نے بڑی ہی عقیدت، محبت اور استقلال کے ساتھ اپنی زندگی کے حالات کو سمیٹا ہے،اس کا تعارف پیش کرتے ہوئے وہ اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر شامل ویڈیو میں کہتی ہیں کہ پہلی بار1965 میں کیمبرج میں راجیو سے ملاقات، راجیوگاندھی کی شخصیت میں سادگی، نفاست اور مہذب اطوار، دونوں میں پیار ومحبت، اخلاص ووفا کا دور،شادی اور ملک کے وزیراعظم کی بہو، ازدواجی زندگی، بچوںکی پرورش اورسیاسی چمک دمک سے دور پرسکون زندگی، ہندوستانی طرز حیات میں ڈھل کر زندگی کا آغاز جیسے پہلوؤں پر ان کے احساسات دیکھنے اور سننے میں ملتے ہیں-

سونیا گاندھی ہندوستان کی سیاست اور اس سے جڑے منظرنامے کا اہم نام ہیں،جن پر غیرملکی ہونے کا بہتان کئی بار بھاجپا اور دیگر سیاسی پارٹیوںنے مسلسل لگایا-انہیں ولایتی بہو کہا گیا-ہندی بولنے کے ولایتی لہجے پر طنز کیا گیا-اٹلی نژاد خاتون کا ہندوستانی عوامی زندگی اور سیاسی عوامل میں شمولیت پر بار بار اعتراضات جتائے گئے-سونیا گاندھی اوران کے بچوں (راہل اور پرینکا) پر بھی جلے کٹے جملے کسے جاتے رہے -مگر سونیا گاندھی صبرواستقامت سے اپنے موقف میں جٹی رہیں- تمام اعتراضات اوربیان بازیوں پر وہ کوئی جوابی بیان یا پھر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا کرتیںاور اپنے بچوں کی بھی ذہنی نشوونما انہوں (سونیا) نے انہی نقوش پر کی تھی کہ اپنے کام سے ہر اعتراض یا بیان بازی کا مدلل جواب دو-یہی بات راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے سیاسی محرکات میں واضح طورپر نظر آتی ہے- ویسے اپنے ملک میں دیگر ملکوں سے بیاہی گئی کئی خواتین یہاں عزت واحترام کے ساتھ ہمارے معاشرے کا حصہ بن کر زندگی بسر کررہی ہیں -مگر چونکہ سونیا گاندھی نہروخاندان کی بہو ہیں اوراس خاندان کی ملک کی سیاست اورعوامی زندگی میں نمائندگی اور ساکھ کے پیش نظر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر سونیا پر طنزیہ بیانات ہوتے رہے-
اہم نکتہ یہ ہے کہ اپنی خودنوشت کا عنوان سونیا گاندھی نے Belonging ’’وابستگی‘‘ رکھا ہے-غیرملکی کا کس طرح اپنے خاوند کے ملک سے وابستہ ہوجانا، اس پہلو کا ایک طویل سفر اس کتاب میں شامل ہے-سرورق پر لکھا گیا ہے ، محبت کا سفر، A Journey of Love یہاں سفرسیاست کا یا پھر آزمائشوں کا نہیں کہا گیا بلکہ جو محبت اپنے محبوب راجیوگاندھی سے ہوئی- پھر اپنے خاوند اوربچوں کے ساتھ گذری زندگی اورکئی کڑوے کسیلے جملوں کے باوجود بھی جو محبت ملی اورجو خلوص ملا وہ سفر ان کا (سونیا کیلئے) مقصدِ حیات بن گیا -یہ کتاب گوکہ ملک کی اہم سیاسی شخصیت اورملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کی سرکردہ شخصیت کی لکھی ہوئی ہے-اس پہلو سے بھی کتاب کے منظرعام پر آنے سے پہلے ہی اس کا تذکرہ سیاسی حلقوں میں میڈیا میں مسلسل ہوتا رہا ہے -جو تفصیلات اس کتاب کے متعلق ملی ہیں، اس کے مطابق اس میں شامل ابواب میں بتدریج سونیا گاندھی کی زندگی کے کئی نشیب وفراز بالترتیب شامل کئے گئے ہیں-ابتدائی باب میں راجیو گاندھی سے دوران طالب علمی برطانیہ کے کیمبرج میں ملاقات، رسم وراج، محبت ،عہدوپیماں، اٹلی کے ایک دیہات میں سونیا کی ابتدائی زندگی، وہاں کا ماحول اور معاشرت پھر ہندوستان کے وزیراعظم کی بہو بننا، سیاست سے دوری، وزیراعظم اندراگاندھی کی فیملی کا حصہ بن کر زندگی میں نیاموڑ، اس طرح بالترتیب ابواب 1981 میں سنجے گاندھی کی حادثے میں موت، 1984 میں وزیراعظم اندراگاندھی کا قتل اور بعد کے حالات، 1991 راجیو گاندھی کا قتل اوربعد کے بدلتے حالات کا رخ ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی صدر کے طورپر کارکردگی، مسائل اور چیلنجز، 2004 میں کانگریس کی زبردست جیت اور وزیراعظم منصب کی پیش کش اور انکار، وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ روابط، یوپی اے کی چیرپرسن ، دس سالہ دوراقتدار، نریندرمودی حکومت کی میعاد کے دوران آر ایس ایس کا غلبہ، اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور حکومت کی ناقص کارکردگی جیسے موضوعات کتاب میں شامل ہیں – سونیا گاندھی کے ساٹھ سالہ اپنے قیام ہندوستان میں ان کے اپنے احساسات، مشاہدات اور آزمائشوں اور قربانیوں کا سفر جس کی بنیادیں راجیوگاندھی سے محبت اور اپنے محبوب خاوند کے ملک سے محبت سے جڑی ہوئی ہیں-یہ کتاب مصنف کی زندگی اور ہندوستان میں بسر کرتے ہوئے بدلتے ہندوستان کی تاریخ بھی پیش کرتی ہے-ایک وہ دور بھی گذرا ہے کہ راہل گاندھی کو ناتجربہ کار سیاست دان کہا جاتا رہا ،ان کا مذاق اڑایا جاتا رہا- مگر آج ملک کے اپوزیشن میں سب سے نمایاں اور اثرانگیز چہرہ راہل ہی ہیں- راہل اور پرینکا کے پارلیمان میں حکومت کو آڑے لیتے ہوئے ان کے بیانات اور للکار کے درمیان لوک سبھا میں بیٹھی ان کی ماں سونیا گاندھی کا استقلال اور موجودگی بھی ان کے اٹلی سے ہندوستان تک کے سفرکی داستان ہی ہے –