شیوکمار اور کمارسوامی کے الزامات، سیاسی اخلاقیات اور شفاف تحقیقات کا امتحان

از: عبدالحلیم منصور
کرناٹک کی سیاست میں تازہ اسٹنگ آپریشن تنازعہ محض دو سیاسی رہنماؤں کے درمیان الزام تراشی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سوال سے جڑا ہے کہ خفیہ ریکارڈنگ کو بدعنوانی بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے یا سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا دعویٰ ہے کہ انہیں اور ریاستی وزرا کو مبینہ طور پر جال میں پھنسانے کی کوشش کی گئی، جبکہ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی نے الزام لگایا کہ شیوکمار نے ایک اسٹنگ آپریشن کے ذریعے سدارامیا کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کی کوشش کی۔ کانگریس کے رکن اسمبلی گنیگا روی کمار نے بھی ایک پین ڈرائیو دکھاتے ہوئے وزرا کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کا دعویٰ کیا۔ یوں ایک ہی تنازعے میں الزامات کی کئی پرتیں سامنے آگئی ہیں، لیکن محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر کسی دعوے کو حقیقت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی الزام تراشی سے آگے بڑھ کر شواہد کی جانچ کی جائے اور حقائق کو سامنے لایا جائے۔
شیوکمار نے 8 اکتوبر کو کہا کہ ان کے پاس مبینہ سازش سے متعلق تصاویر، دستاویزات اور دیگر معلومات موجود ہیں۔ اگلے روز گنیگا روی کمار نے دعویٰ کیا کہ پین ڈرائیو میں سی سی ٹی وی فوٹیج، آڈیو ریکارڈنگ اور ویڈیوز ہیں۔ دوسری طرف کمارسوامی کا الزام ہے کہ سدارامیا کو مبینہ اسٹنگ آپریشن کا مواد دکھا کر وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ کانگریس نے اس الزام کو مسترد کردیا، تاہم سیاسی بیانات کے اس تبادلے سے بنیادی سوالات کا جواب نہیں ملا۔ کمارسوامی کے الزام کے حق میں کیا شواہد ہیں؟ شیوکمار کے پاس مبینہ سازش سے متعلق موجود مواد متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا ہے یا نہیں؟ اور گنیگا روی کمار کی پین ڈرائیو میں موجود ریکارڈنگ کی حقیقت کیا ہے؟ ان سوالات کے جواب سیاسی بیانات یا خاموشی سے نہیں، بلکہ مستند شواہد کی
جانچ سے ہی سامنے آسکتے ہیں۔
اگر شیوکمار کے پاس واقعی انہیں پھنسانے کی کوشش کے ثبوت ہیں تو انہیں متعلقہ تفتیشی ادارے کے حوالے کرکے قانونی کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کمارسوامی کو بھی اپنے الزام کی تائید میں شواہد پیش کرنے چاہییں، جبکہ گنیگا روی کمار کو پین ڈرائیو میں موجود مواد کی باقاعدہ جانچ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ معیار تمام فریقوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ کسی الزام کو صرف اس لیے درست نہیں مانا جاسکتا کہ وہ اپوزیشن کی طرف سے لگایا گیا ہے، اور نہ محض اس لیے مسترد کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زد میں برسراقتدار جماعت کا کوئی رہنما آتا ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی عہدہ کسی کو احتساب سے استثنا نہیں دیتا، لیکن الزام لگادینا بھی کسی کو مجرم ثابت نہیں کرتا۔
اس تنازعے کی اصل اہمیت اسٹنگ آپریشن کے مقصد اور طریقۂ کار میں پوشیدہ ہے۔ اگر کسی عوامی عہدے دار کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے قابلِ اعتماد شواہد سامنے لانے کے لیے خفیہ ریکارڈنگ کی جائے تو وہ عوامی مفاد میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو دانستہ طور پر مشتبہ صورتِ حال میں پھنسایا جائے، اس کی نجی زندگی کو نشانہ بنایا جائے یا ریکارڈنگ کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جائے تو اسے احتساب نہیں کہا جاسکتا۔ کسی کی بدعنوانی بے نقاب کرنا اور کسی کو سازش کے ذریعے بدعنوانی میں ملوث دکھانے کی کوشش کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ ان کے درمیان فرق مٹ جائے تو نہ صرف بے گناہ افراد کی ساکھ تباہ ہوسکتی ہے بلکہ حقیقی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والے شواہد پر بھی شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔

مارچ 2014 میں ٹی وی 9 کے دو صحافیوں کو ڈی کے شیوکمار کے خلاف مبینہ اسٹنگ آپریشن کی کوشش کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، وہ شمسی توانائی کے منصوبے کے نمائندے بن کر ان سے ملے تھے اور نقد رقم پیش کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ شیوکمار نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اس کوشش کا پہلے سے علم تھا۔ تاہم، ماضی کا یہ واقعہ موجودہ الزامات کی صداقت کا فیصلہ نہیں کرتا؛ اس کے لیے شواہد کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
مارچ 2021 میں بی جے پی کے رہنما رمیش جارکی ہولی سے متعلق مبینہ جنسی استحصال اور ویڈیو تنازعے نے بھی ریاستی سیاست میں ہلچل پیدا کی تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا اور معاملے کو سازش قرار دیا، جبکہ دوسری جانب سنگین الزامات لگائے گئے۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ کسی ویڈیو کا منظرعام پر آنا بذاتِ خود تمام قانونی سوالات کا جواب نہیں ہوتا۔ ایسے مواد کے اثرات فوری طور پر کسی کی ساکھ اور سیاسی مستقبل کو متاثر کرسکتے ہیں، جبکہ اس کی صداقت اور قانونی حیثیت کا تعین تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ میڈیا میں شور، سیاسی بیانات اور عوامی قیاس آرائیاں عدالتی فیصلے کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
سنہ 2024 میں پرجول ریونا سے متعلق جنسی جرائم کے الزامات اور ویڈیوز کے معاملے نے بھی یہی سوال اٹھایا کہ ثبوت کو قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے یا اسے سیاسی اور عوامی تماشے کا حصہ بنا دیا جائے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی گئی۔ ایسے معاملات میں مبینہ جرائم کی منصفانہ تحقیقات اپنی جگہ ضروری ہیں، جبکہ متاثرہ خواتین کی شناخت اور نجی مواد کے غیر ضروری پھیلاؤ سے تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کسی جرم کے شواہد متعلقہ اداروں کے سامنے پیش ہونے چاہییں؛ انہیں اس انداز میں عام کرنا کہ متاثرین کی عزت اور نجی زندگی مزید متاثر ہو، انصاف کے مقصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
موجودہ تنازعے میں ڈیجیٹل شواہد کی صداقت ایک الگ اہمیت رکھتی ہے۔ آڈیو، ویڈیو یا سی سی ٹی وی فوٹیج کی موجودگی ہی اس کے مستند ہونے کی ضمانت نہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ریکارڈنگ کس نے اور کن حالات میں حاصل کی، آیا اس میں ردوبدل ہوا، مکمل مواد کیا ظاہر کرتا ہے اور اسے کس مقصد کے تحت پیش کیا جارہا ہے۔ جدید تدوینی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے باعث جعلی یا گمراہ کن مواد تیار کرنا بھی ممکن ہے، اس لیے ضرورت پڑنے پر آزاد تکنیکی ماہرین سے اس کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی متعلقہ افراد کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ نہ ہر ریکارڈنگ کو بلا تحقیق سچ ماننا درست ہے، نہ ہر ثبوت کو سیاسی سازش کہہ کر نظرانداز کرنا۔
بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) کو اپنے الزامات کی تائید میں شواہد پیش کرنے چاہییں، جبکہ کانگریس حکومت کو بھی ان الزامات کا جواب محض سیاسی انتقام قرار دے کر دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی نے وزرا کو پھنسانے یا کسی وزیر اعلیٰ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ اگر الزام بے بنیاد ہے تو شواہد کی بنیاد پر اس کی تردید کی جانی چاہیے۔ اقتدار میں موجود جماعت سے جواب دہی کا مطالبہ جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے، مگر اپوزیشن کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ سنگین الزامات کو محض سیاسی فائدے کے لیے اچھالنے کے بجائے ان کی تصدیق کے لیے ٹھوس مواد پیش کرے۔
اس معاملے کا حل ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ میں نہیں، بلکہ واضح اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار میں ہے۔ متعلقہ شواہد کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے، ریکارڈنگ کے ماخذ اور صداقت کا تعین کیا جانا چاہیے اور اگر کسی غیر قانونی سرگرمی کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ تحقیقات کا مقصد کسی جماعت کو سیاسی برتری دلانا نہیں، بلکہ حقیقت تک پہنچنا ہونا چاہیے۔ اس عمل کی شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ الزامات کی تفتیش کس مرحلے میں ہے اور کن نتائج تک پہنچا گیا ہے۔
جمہوریت میں احتساب ناگزیر ہے، لیکن احتساب کے نام پر کسی کو جال میں پھنسانا، نجی زندگی کو سیاسی ہتھیار بنانا یا غیر مصدقہ مواد کے ذریعے کردارکشی کرنا قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح بدعنوانی کے حقیقی شواہد کو سیاسی مصلحت کے تحت دبانا بھی عوام کے اعتماد سے انحراف ہے۔ ڈی کے شیوکمار، ایچ ڈی کمارسوامی، گنیگا روی کمار اور دیگر متعلقہ فریقوں کے دعووں کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے: ثبوت پیش کیے جائیں، ان کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو اور نتائج کی بنیاد پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ کرناٹک کی سیاست کو یہ طے کرنا ہے کہ اسٹنگ آپریشن عوامی مفاد میں احتساب کا ذریعہ بنے گا یا اقتدار کی کشمکش میں بلیک میلنگ کا ہتھیار۔ اس کا جواب سیاسی نعروں سے نہیں، شفاف تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد سے ملے گا۔