
محمداعظم شاہد
3 جون 2026 کو کرناٹک میں ڈی کے شیو کمار کی قیادت میں نئی حکومت تشکیل پائی۔پریانک کھرگے نئے وزیر داخلہ بنائے گئے، جو انڈین نیشنل کانگریس کے قومی صدر ملیکا رجن کھرگے کے فرزند ہیں، پریانک کھرگے نے حالیہ دنوں میں آر ایس ایس سے متعلق جوابدہی کے چند سوالات اٹھائے ہیں، جن پرآر ایس ایس اور اس کی ترجمان سیاسی جماعت بی جے پی چراغ پا ہے۔اہم سوال یہ رہا ہے کہ ملک میں قانون کے تحت تمام نجی ادارے، تنظیمیں اور یہاں تک کہ سڑکوں پر تجارت کرنے والوں کو بھی قانون کا لحاظ وپاس رکھنا ہوتا ہے، تمام ادارے کواپنی کارکردگی کے حوالے سے اپنے اغراض ومقاصد کے تحت متعلقہ قوانین کے مطابق اپنا رجسٹریشن کروانا لازمی ہے، اپنے ادارے یا تنظیم کے لئے جو آمدنی کے وسائل ہیں اور جو عطیہ جات موصول ہوتے ہیں، ان کا حساب کتاب پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ اور آمدنی واخراجات کے ضمن میں جو واجب الادا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے، اس کا ریکارڈ بھی عوامی حدود میں رکھنا بھی معاملات میں شفافیت کا تقاضہ ہے اور اپنی تنظیم کے عہدیداران اور اراکین کی تفصیلات سے بھی حکومت باخبر رہے۔ پریانک کھرگے نے مدلل طور پر اس نکتہ پر بھی اپنی بات رکھی ہے کہ ہر ادارہ، تنظیم ملک کے قانون سے بالاتر ہونہیں سکتا۔ملک کا آئین اور قانون سبھی کو یکساں اور مساوی مراعات فراہم کرتا ہے۔اگر آر ایس ایس/رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہے تو یہ کس قانون کے تحت ہے یا کس خاص مراعات کے نتیجے میں ہے۔اگر اپنی آمدنی اور عطیہ جات کا حساب کتاب پیش نہ کرنے پر جو چھوٹ دی گئی ہے اور انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی کی اجازت بھی ہے تو کس قانون کے تحت یہ سب ممکن ہے۔ان نکات پر پوچھے گئے سوالات اٹھاتے ہوئے پریانک کھرگے نے آرایس ایس سے کھلے عام یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ (آر ایس ایس) اپنے جوابات مدلل طور پر متعلقہ دستاویزات کے ساتھ پیش کرے یا پھر ان کے دفتر میں متعلقہ ذمہ داران کے ساتھ بحث ومباحثے کے لئے آئیں، کرناٹک کے نئے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے ان سوالوں کو آر ایس ایس کو جوابدہ بنانے اور جمہوری تقاضوں کے تحت قانون کی گرفت میں رکھنے کے اِس اقدام کو الگ الگ زاویوں سے دیکھا جانے لگا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ آر ایس ایس کی کھلے عام بالادستی پر گرفت رکھنے کا یہ جرأت مندانہ اقدام اس(آر ایس ایس) تنظیم پر شکنجہ مضبوط کرپائے گی یا نہیں، یہ حالات اور وقت ہی بتاپائے گا۔پریانک کھرگے کے ان سوالوں پر کرناٹک میں بی جے پی کے ذمہ داروں نے اس کو انتقامی سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرایس ایس عوام کی تنظیم ہے،جو ملک میں سماجی وتعلیمی میدان میں تبدیلی چاہتی ہے۔بی جے پی لیڈر شپ کہتی رہی کہ آر ایس ایس کے ساتھ کانگریس نے نظریاتی جنگ کی ابتدا کی ہے۔تاویلات پیش کی جاتی رہیں کہ کئی صدور جمہوریہ ، ملک کے موجودہ وزیر اعظم اور کئی ذمہ دار عہدوں پر فائز قائدین آر ایس ایس ایس کے ہم نوا رہے ہیں۔مگر درحقیقت آر ایس ایس سماجی تنظیم کا دعویٰ کرنے کے باوجود پورے ملک میں سیاسی، انتظامی اور نظریاتی اثر اندازی کے تمام شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے

آر ایس ایس اور اس کی آواز بھاجپا(بی جے پی) میں پریانک کھرگے کے ان سوالوں پر کہاگیا کہ اب تک آر ایس ایس پر کسی نے اس نوعیت کے سوال نہیں اٹھائے۔اس لئے کہ آر ایس ایس کی کارکردگی سے حکومتیں واقف ہیں۔گزشتہ سال 2025 میں آر ایس ایس نے پورے ملک میں اپنی صدسالہ تقریبات زور وشور سے منائیں۔مودی حکومت نے مرکز میں اس موقع پر ایک یادگار ڈاک ٹکٹ اور سکے بھی جاری کیا، جوقومی سطح پر آر ایس ایس نواز حکومت کا کھلا اعتراف تھا کہ آر ایس ایس عظیم عوامی قومی تنطیم ہے۔ملک کے ہر حصے میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیاگیا اور آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے اپنے روایتی یونیفارم میں جلوس (روٹ مارچ) بھی نکالے۔سابقہ واقعات کی روشنی میںآر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے زور شور اور جلوس کے اہتمام پر کئی فرقہ وارانہ حساس علاقوں میں نظم وضبط (لاء اینڈ آرڈر) میں خلل کے اندیشے محسوس کئے گئے اور ضلع انتظامیہ کو کئی متعلقہ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس ضمن میں گزشتہ سال2025 میںجب سدارامیا حکومت میںپریانک کھرگے وزیر دیہی ترقیات کا قلمدان سنبھال رہے تھے۔اس سال اکتوبر کے مہینے میں جب کرناٹک کے مختلف مقامات پر آر ایس ایس کی صدسالہ تقریبات کے تحت سویم سیوکوں کا مارچ جلوس کی شکل میں نکالاگیا۔ان دنوں ضلع گلبرگہ کے چیتا پور حلقہ اسمبلی جس کی نمائندگی پریانک کھرگے کرتے ہیں۔وہاں چند دلت اور امن پسند اداروں نے آر ایس ایس کے جلوس کو امن میں خلل کا باعث قرار دیتے ہوئے اس کو روکنے کا مقامی اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاتھا۔تب پریانک کھرگے نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کو ایک مکتوب لکھ کر مطالبہ کیاکہ آرایس ایس کو سرکاری املاک کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔سرکاری عمارتوں، میدانوں میں آر ایس ایس کے روایتی معاملات کی کارکردگی پر امتناعی احکامات جاری کئے جائیں اور کسی بھی طرح کی تقریب یا جلوس کے لئے مقامی انتظامیہ کی اجازت طلب کرنے کو لازمی قرار دیا جائے اور جن حساس مقامات پرعوامی امن میں خلل واقع ہونے کا امکان ہو، وہاں اجازت نہ دی جائے۔اس طرح حکومت نے پریانک کھرگے کے مشورے کو عملی طور پر قبول کرتے ہوئے سرکاری احکامات بھی جاری کئے تھے، پریانک کے حلقہ اسمبلی میں مجوزہ دن اور وقت پر آرایس ایس کے جلوس پر ضلع انتظامیہ نے نظم وضبط کے تناظر میں پابندی عائد کردی تھی۔پھر معاملہ ہائی کورٹ پہنچا، کورٹ کی ہدایت پر ضوابط وشرائط کی بنیاد پر چند ہفتوں بعد وہاں جلوس نکالاگیا۔ان وجوہات کے باعث بھی آر ایس ایس سے متعلق اپنے سخت موقف کے حوالے سے بھی پریانک کھرگے خبروں کی سرخیوں میں نظر آئے تھے اور اب حالیہ دنوں میں آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر انہوں (پریانک) نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو اِنہی سوالات پر ایک خط لکھا ہے، جو انہوں نے ایکس پر شیئر کیاہے، موہن بھاگوت نے پریانک کے اٹھائے گئے سوالات پر کہا ہے کہ یہ سیاسی دائو پیچ ہے، جس سے آر ایس ایس سامنا کرتی آئی ہے۔اگر ایسے سیاسی دائو پیچ نہ ہوں توآر ایس ایس اپنے اندر کمی محسوس کرتی ہے۔بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندو دھرم کا بھی کوئی رجسٹریشن نہیں ہے۔آر ایس ایس نے اپنی کارکردگی کے سوسال مکمل کئے ہیں اور ہم نے حکومت کو 1950 کی دہائی میں ہماری تنظیم کا دستور پیش کردیا ہے۔حکومت آر ایس ایس سے واقف ہے اور کئی ایسے ادارے ہیں جو ملک میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، دراصل رجسٹریشن حکومت سے مالی تائید حاصل کرنے کے لئے لازمی ہے۔مگر یہ آر ایس ایس پر لازمی نہیں ہے۔پریانک کھرگے کے کھلے خط پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس خط پر اپنا رد عمل پیش نہیں کروں گا۔اس لئے کہ آر ایس ایس کھلے عام اپنا کام کرتی ہے ناکہ راز داری میں۔کسی بھی حکومت نے آر ایس ایس کو رجسٹریشن کے لئے نہیں کہاتھا، ہم (آر ایس ایس) عوام کی سماجی تنظیم ہیں۔آر ایس ایس پر مرکزی حکومت نے گاندھی جی کے قتل پر 1948 میں، 1975 میں ایمرجنسی کے دوران وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اور 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پابندی لگائی تھی، پریانک کھرگے کے سوالات پر نتیجہ کیاہوگا، یہ دیکھنا ہوگا۔