
از: عبدالحلیم منصور
کرناٹک قانون ساز کونسل کے حالیہ انتخابات محض سات نشستوں کے انتخاب تک محدود نہیں رہے۔ یہ انتخاب اپنے نتائج سے کہیں زیادہ ان سوالات کی وجہ سے اہم بن گیا ہے جو اس کے بعد ریاستی سیاست کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ بظاہر کانگریس نے اپنی پانچویں نشست جیت کر سیاسی برتری ثابت کی، بی جے پی اور جے ڈی ایس کو دھچکا لگا اور انتخابی عمل اختتام پذیر ہوگیا، لیکن درحقیقت یہی وہ لمحہ تھا جب اصل سیاسی کہانی شروع ہوئی۔
اس انتخاب نے صرف ایک امیدوار کو کامیاب یا ناکام نہیں بنایا بلکہ اس نے ریاست کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود اعتماد کے بحران، قیادت کے سوالات، گروہ بندیوں، سیاسی اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی۔ یہی وجہ ہے کہ نتائج سامنے آنے کے کئی دن بعد بھی سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز کامیاب امیدوار نہیں بلکہ کراس ووٹنگ، دھرمستھلا، بی جے پی کی اندرونی کشمکش، بی جے پی کے ریاستی صدر وجیندرا کی قیادت اور سیاسی وفاداریوں کے بدلتے معیارات بنے ہوئے ہیں۔
کونسل انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو کانگریس کے پاس اپنے پانچوں امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے درکار تعداد پہلے سے موجود تھی۔ پارٹی کے 135 ارکان اسمبلی، دو آزاد ارکان اور اتحادی حمایت کے ساتھ پانچ نشستیں حاصل کرنا اس کے لیے ممکن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد سب سے پہلا سوال یہی اٹھا کہ اگر کامیابی یقینی تھی تو پھر مخالف جماعتوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ۔یہ سوال محض عددی سیاست کا نہیں بلکہ اخلاقی سیاست کا بھی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران کانگریس پورے ملک میں بی جے پی پر منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت، حکومتیں گرانے، ’’آپریشن کمل‘‘ اور سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کرانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، گوا، اروناچل پردیش، منی پور اور خود کرناٹک کی مثالیں بار بار پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ایسے میں اگر کانگریس اپنے حق میں ہونے والی کراس ووٹنگ کو سیاسی مہارت یا عوامی مقبولیت کی علامت قرار دے تو ناقدین کے لیے سوال اٹھانا فطری ہے کہ کیا سیاسی اصول صرف مخالفین کے لیے ہوتے ہیں؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے بعض اراکین کی جانب سے کراس ووٹنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کانگریس کے امیدوار ونئے کارتک کامیاب ہوئے جبکہ اتحادی امیدوار گووند راجو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد ریاستی سیاست میں الزام تراشیوں، وضاحتوں اور جوابی بیانات کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔ بی جے پی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے، جے ڈی ایس میں بھی سوالات اٹھنے لگے اور سیاسی بحث کا مرکز انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پس پردہ محرکات بن گئے۔
دوسری جانب کانگریس اس کامیابی کو اپنی حکومت کی عوامی مقبولیت کا ثبوت قرار دے رہی ہے، مگر اگر کراس ووٹنگ کو عوامی حمایت کا پیمانہ مان لیا جائے تو پھر دیگر ریاستوں میں کانگریس یا انڈیا اتحاد کے خلاف ہونے والی اسی نوعیت کی سیاسی پیش رفت کو بھی اسی معیار پر جانچنا ہوگا۔ بلاشبہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے بعض اراکین کی جانب سے مبینہ کراس ووٹنگ ان جماعتوں کے اندر موجود بے چینی اور داخلی کمزوریوں کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کانگریس کی کامیابی سے جڑا اخلاقی سوال بھی اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، جس کا جواب محض عددی اکثریت سے نہیں دیا جا سکتا۔
کرناٹک کی حالیہ سیاسی کشمکش صرف ایک انتخابی واقعہ نہیں بلکہ پورے ملک کی سیاست کے لیے ایک آئینہ ہے، جو یہ یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت میں ہر کامیابی لازماً اخلاقی کامیابی نہیں ہوتی اور ہر شکست صرف عددی شکست نہیں کہلا سکتی۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا؛ اصل سوال یہ ہے کہ جمہوری اقدار نے کیا کھویا اور عوامی اعتماد کو کتنا نقصان پہنچا۔
دوسری جانب اس انتخاب نے ریاستی بی جے پی کی اندرونی صورت حال کو بھی غیر معمولی حد تک بے نقاب کر دیا۔ انتخابی نتائج کے فوراً بعد ریاستی صدر بی۔ وائی۔ وجیندرا کا ردعمل اس بات کا اشارہ تھا کہ معاملہ صرف چند ووٹوں کا نہیں بلکہ قیادت کے اختیار، جماعتی نظم و ضبط اور تنظیمی کنٹرول کا بھی ہے۔
وجیندرا نے اعلان کیا کہ کراس ووٹنگ کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے پارٹی کے اراکین اسمبلی کو ریاست کے مذہبی و مقدس مقام دھرمستھلا لے جایا جائے گا، جہاں شری منجوناتھ سوامی کے سامنے حلف لے کر سچ سامنے لایا جائے گا۔ کرناٹک کی سیاست میں یہ ایک غیر معمولی تجویز تھی۔ ایک قومی جماعت کے ریاستی صدر کی جانب سے سیاسی تنازع کے حل کے لیے مذہبی مقام کا حوالہ دینا فوری طور پر بحث کا موضوع بن گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تجویز کی مخالفت کانگریس یا جے ڈی ایس نے نہیں بلکہ خود بی جے پی کے اندر سے شروع ہوئی۔ سینئر رہنما ایس۔ سریش کمار نے دھرمستھلا جیسے مقدس مقام کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے پر اعتراض کیا۔ بعض دیگر رہنماؤں نے بھی بالواسطہ طور پر اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ کراس ووٹنگ سے نکل کر بی جے پی کی قیادت، داخلی جمہوریت اور فیصلہ سازی کے انداز پر بحث میں تبدیل ہوگیا۔
اس دوران دہلی میں سرگرمیاں بھی تیز ہوئیں۔ مرکزی قیادت متحرک ہوئی، مختلف سطحوں پر مشاورت ہوئی اور ریاستی رہنماؤں کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اطلاعات کے مطابق دھرمستھلا میں مجوزہ حلف برداری کا منصوبہ پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ داخلی تحقیقات اور تنظیمی جائزے پر زور دیا گیا۔ سی۔ ٹی۔ روی کی سربراہی میں حقائق جمع کرنے اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئیں۔ اس پورے عمل نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا۔ اگر ذمہ دار افراد کی شناخت ممکن تھی تو پھر دھرمستھلا کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر شناخت اتنی آسان نہیں تھی تو پھر اتنے اعتماد کے ساتھ عوامی اعلانات کیوں کیے گئے؟
درحقیقت دھرمستھلا تنازع نے یہ واضح کر دیا کہ ریاستی بی جے پی صرف حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد میں مصروف نہیں بلکہ اسے اپنے داخلی اختلافات اور قیادت سے متعلق سوالات کا بھی سامنا ہے۔ ایک عرصے سے پارٹی کے اندر مختلف دھڑے سرگرم ہیں۔ ایک طرف وجیندرا کی قیادت ہے جسے سابق وزیر اعلیٰ بی۔ ایس۔ یڈیورپا کی سیاسی وراثت کا تسلسل سمجھا جاتا ہے، تو دوسری طرف ایسے حلقے بھی موجود ہیں جو موجودہ ریاستی قیادت کے انداز اور ترجیحات سے مطمئن نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوری صورت حال کو صرف کراس ووٹنگ کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں ریاستی قیادت، مستقبل کی صف بندی، تنظیمی کنٹرول، انتخابی حکمت عملی اور مرکزی قیادت کے ساتھ تعلقات جیسے کئی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتیجے کے بعد بعض حلقوں نے براہِ راست وجیندرا خکی قیادت پر سوالات اٹھائے جبکہ ان کے حامیوں نے اسے ایک منظم سیاسی مہم قرار دیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر بی جے پی خود کو دنیا کی سب سے منظم سیاسی جماعت قرار دیتی ہے تو پھر اس کے اپنے اراکین اسمبلی کے بارے میں اس حد تک شکوک و شبہات کیوں پیدا ہوئے؟ کیا یہ محض ایک انتخابی حادثہ تھا یا اس کے پیچھے تنظیمی کمزوریوں اور اندرونی ناراضیوں کی کوئی گہری کہانی موجود ہے؟
جے ڈی ایس کی پوزیشن بھی کم دلچسپ نہیں۔ پارٹی نے اضافی امیدوار میدان میں اتار کر ایک سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی تھی، لیکن نتائج نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اقدام اپنی سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش تھا، جبکہ بعض اسے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی سنجیدگی جانچنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ جو بھی حقیقت ہو، اس انتخاب نے یہ ضرور واضح کر دیا کہ اتحادی سیاست کے اندر بھی مکمل اعتماد موجود نہیں۔
اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو کرناٹک کا یہ واقعہ دراصل قومی سیاست کے ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ مہاراشٹر میں شیو سینا کی تقسیم، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ، مختلف ریاستوں میں منتخب نمائندوں کی وفاداریوں کی تبدیلی، پارلیمانی سطح پر جماعتی انحراف اور مسلسل بدلتے ہوئے سیاسی اتحاد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست میں نظریاتی وابستگی کمزور اور سیاسی مصلحتیں مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔
اسی پس منظر میں دسویں جدول یعنی انسدادِ انحراف قانون کی افادیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس قانون کا مقصد سیاسی وفاداریوں کی تجارت روکنا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں نے اس کی کمزوریوں کو بھی دریافت کر لیا۔ نتیجتاً قانون موجود ہے مگر اس کی روح کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ صورت حال صرف سیاسی جماعتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ ووٹر کسی فرد کو نہیں بلکہ ایک نظریے، منشور اور سیاسی شناخت کو ووٹ دیتا ہے۔ جب منتخب نمائندے اس اعتماد سے انحراف کرتے ہیں تو صرف پارٹی نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ بھی متاثر ہوتا ہے۔
کرناٹک کے حالیہ کونسل انتخابات نے ایک اور اہم حقیقت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس تینوں جماعتیں ایک دوسرے پر سیاسی بے اعتمادی اور غیر اخلاقی طرزِ عمل کے الزامات عائد کرتی ہیں، لیکن اس انتخاب نے ان جماعتوں کے اندر موجود بے چینی، شکوک اور تنظیمی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا۔ اگر مکمل اعتماد موجود ہوتا تو کراس ووٹنگ کے خدشات نہ ہوتے، تحقیقات کی ضرورت نہ پڑتی اور سیاسی وفاداریوں پر اس قدر شدید بحث بھی نہ ہوتی۔
شاید اس پورے سیاسی منظرنامے میں اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کس نے کس کے حق میں ووٹ دیا، بلکہ یہ ہے کہ ہماری سیاست کس سمت جا رہی ہے۔ کیا سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کو محض مخالفین کے خلاف استعمال ہونے والا ہتھیار سمجھتی رہیں گی یا اپنے لیے بھی وہی معیار قبول کریں گی جن کا مطالبہ وہ دوسروں سے کرتی ہیں؟
کرناٹک کے کونسل انتخابات کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ جمہوریت صرف اکثریت حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اعتماد برقرار رکھنے کا نام بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات جیت سکتی ہیں، مخالفین کو شکست دے سکتی ہیں اور وقتی سیاسی فائدے حاصل کر سکتی ہیں، لیکن اگر عوام کے ذہن میں سیاسی نظام کی ساکھ کمزور ہونے لگے تو یہ نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری جمہوریت کا ہوتا ہے۔
آج کرناٹک کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کانگریس کو اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنی ہے، بی جے پی کو اپنے داخلی بحران کا حل تلاش کرنا ہے اور جے ڈی ایس کو اپنے سیاسی مستقبل کی سمت واضح کرنی ہے۔ اس پوری کشمکش میں اصل امتحان کسی ایک رہنما یا جماعت کا نہیں بلکہ جمہوری سیاست کی ساکھ، سیاسی وفاداری کی معنویت اور عوامی اعتماد کے تحفظ کا ہے۔