
محمداعظم شاہد،بنگلور
ملک میں اب تک کہ جو سیاسی حالات ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ اپوزیشن نے متحد ہوکر برسراقتدار این ڈی اے حکومت کو ڈٹ کر آڑے ہاتھوں نہیں لیا ہے -اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انڈیا الائنس یا انڈیا بلاک جو تقریباً پچیس سیاسی جماعتوں کا متحدہ پلیٹ فارم تھا، یہ خود آپسی رنجشوں اور اختلافات اور عدم ہم آہنگی کا شکار رہا ہے – انڈیا بلاک کا آغاز سال 2023 میں بلند عزائم کے ساتھ ہوا تھا- مگر بتدریج یہ متحدہ محاذ بن کر کام کرنے میں اس قدر کامیاب نہیں ہوسکا جتنا کہ امیدیں لگائی گئی تھیں – اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں – حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں خود کانگریس وہاں کی علاقائی ترنمول کانگریس کے مقابل ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے -جبکہ دونوں انڈیا بلاک کے اہم شراکت دار رہے ہیں- اسی طرح تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان آپسی اختلافات حالیہ دنوں میں نظر آئے -کانگریس نے وجئے کی ’’ٹی وی کے‘‘ حکومت کی حمایت میں آگے آئی اور اپنے ہم نوا’’ڈی ایم کے‘‘سے دور ہوگئی-یہی وجہ ہے کہ ڈی ایم کے اب انڈیا بلاک کا حصہ نہیں رہی- ڈی ایم کے اب بی جے پی مخالف اپنا نیا محاذ بنانے میں مصروف ہے-عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے سیاسی اختلافات کے باعث انڈیا بلاک سے علاحدگی اختیار کرلی ہے-پہلے بہار اور بعد میں مغربی بنگال میں جس طرح بی جے پی اپنے پَر پھیلا رہی ہے اور ہندو توا ایجنڈے کو مذہبی منافرت کیلئے استعمال کرتے اقتدار پر قابض ہورہی ہے، یہ اشارہ ہے کہ آئندہ دنوں میں بی جے پی ملک کو اپنی گرفت میں رکھنے کا ہتھکنڈے کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کی پوری منصوبہ بندتیاری میں لگی ہوئی ہے-

انڈیا بلاک جوکہ ملک کا طاقتور اپوزیشن پلیٹ فارم سمجھا جاتا رہا ہے-اس محاذ میں اب کل تئیس(23) سیاسی جماعتیں رہ گئی ہیں -جن سیاسی معاشی ،سماجی حالات سے اب ملک دوچار ہے اس کے پس منظر میں انڈیا بلاک نے پھر سے مرکزی حکومت کے خلاف صف آرائی اور متحدہ طورپر نمٹنے کیلئے 8جون2026 دہلی میں اپنی ایک اہم میٹنگ میں ایک لائحہ عمل اپنایا ہے- سمجھا جارہا ہے کہ اکتوبر یا نومبر میں شروع ہونے والے پارلیمان کے سرمائی اجلاس سے قبل اپوزیشن متحدہ طورپر ملک کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت سے روبرو ہوگا- انڈیا بلاک کے حالیہ اجلاس میں جو فیصلے لئے گئے اس کی تفصیلات تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہوں کی موجودگی میں صدر کانگریس ملیکارجن کھرگے نے پریس کانفرنس میں پیش کئے- بتایا گیا کہ پانچ اہم نکات پر اتفاق رائے قائم ہوئی- اہم نکات میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی اورانتخابی عمل کی غیرجانبداری کے حوالے سے طے کیا گیا کہ ایک مشترکہ خط سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ارسال کیا جائے گا- اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹ مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث کروڑوں شہریوں کے حق رائے دہی پر سوالات پیدا ہورہے ہیں- اس اہم اجلاس میں تعلیمی شعبے سے متعلق مسائل بھی زیر بحث آئے -انڈیا بلاک نے مطالبہ کیا کہ نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات میں ہوئی بے ضابطگیوں کے زیر اثر لاکھوں طلبہ کے متاثر ہونے کے سبب مرکزی وزیر تعلیم فوری طورپر استعفیٰ دیں – اپوزیشن نے کہا ہے کہ ملک میں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہورہی ہے اور حکومت اس معاملے میں ناکام ثابت ہوئی ہے- اپوزیشن اتحاد نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور عوامی مشکلات کے حل کو بھی اپنی جدوجہد کا مرکزی موضوع قرار دیا -حزب اختلاف (اپوزیشن) کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت عوامی مسائل پر ایک کل جماعتی اجلاس طلب کرے، تاکہ ان معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوسکے- اس اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ انڈیا بلاک کی میٹنگ ہر دوماہ بعد باقاعدگی سے منعقد کی جائے – فیصلہ لیا گیا ہے کہ اس سلسلے کی اگلی میٹنگ اگست میں حیدرآباد میں ہوگی-اس کے علاوہ اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی (کوآرڈی نیشن) برقرار رکھنے کیلئے روزانہ صبح قائد حزب اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کے دفتر میں اجلاس منعقد کیا جائے اور جن امور پر بحث درکار ہے اس پر باہمی گفتگو کے ذریعے ایک آواز ہوکر حکومت کو جوابدہ بنایا جائے –

کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے اس پریس کانفرنس میں انڈیا بلاک کا موقف بیان کرتے ہوئے مزید بتایا کہ مرکزی حکومت کو مختلف محاذوں پرمنفی کارکردگی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا -کہا گیا کہ ملک اس وقت سیاسی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ پالیسی کے کئی چیلنجوں سے دوچار ہے -اورملک میں آئینی اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے – ملک کی تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کے خلاف کیا جارہا ہے اور وفاقی ڈھانچے کی روح کو نقصان پہنچ رہا ہے – ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، سرمایہ کاری میں سست روی، روزگار کے مواقع میں کمی، جیسے مسائل نے عام آدمی کی مشکلات میں آئے دن اضافہ کیا ہے – چھوٹی اور درمیانی سطح کے کاروبار بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں- ملک کے امتحانی نظام میں مبینہ بے قاعدگی ،نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں اور سماج کے کمزور طبقات کے خلاف مظالم کی روک تھام کیلئے بھی اور دیگر سلگتے مسائل کے مؤثر اور بروقت حل کیلئے بھی اپوزیشن مسلسل آواز اٹھاتا رہے گا- ملک کی خارجہ پالیسی کی ساتھ متاثر ہورہی ہے اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن متاثر ہورہی اس نکتے پر بھی انڈیا بلاک نے اپنی فکر جتائی- انڈیا بلاک نے اس اہم اجلاس میں اپنے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور عوامی مسائل کے تحفظ کیلئے متحد ہوکر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے-
جب انڈیا بلاک کا یہ اہم اجلاس جاری تھا، اس دوران ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکرکو اپنے خط میں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان اراکین کے گروپ کو ایک علاحدہ گروپ کے طورپر منظوری دی جائے اور علاحدہ نشستوں کا بھی انتظام کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے -اس علاحدہ گروپ نے برسراقتدار این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی زیر قیادت ترنمول کانگریس میں اندرونی اختلاف، ریاستی سیاسی صورتحال کے پیش نظر این ڈی اے کی حمایت کا فیصلہ لیا ہے -اس پارٹی کے اختلافات نے ایک ایسا ایسا سنگین رخ لیا ہے جب انڈیا بلاک طاقتور متحدہ محاذ کی ازسر نو تیاری کے فیصلے کررہی تھی -یہ سیاسی اقدام انڈیا بلاک کا اہم حصہ ٹی ایم سی کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے اور سیاسی حریف این ڈی اے ممکن ہے اس سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے – بہرکیف اپوزیشن ہر بار بلند عزائم کے ساتھ آپس میں جٹ جاتا ہے -متحد ہوکر آگے بڑھنے کی مشاورت میں مستعد رہتا ہے – مگر گذرتے وقت کے ساتھ یہ اتحاد اکثر اقتدار کے حصول کی دوڑ میں اپنے عزائم بھلا بیٹھتا ہے اور واضح طور پر اس کا خمیازہ بھی بھگتتا رہتا ہے -جس نوعیت کے سیاسی حالات مختلف ریاستوں میں ہیں اور این ڈی اے کی کارستانیاں نئے نئے رنگ دکھارہی ہیں – ایسے میں اپوزیشن کا عملی اتحاد عام آدمی کے حالات بدلنے اور ملک کو بے روزگاری،بدعنوانی اور مہنگائی سے چھٹکارا دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس طرح مرکزی حکومت کی ایک طرفہ کارکردگی ہے اورجہاں عوام کے مسائل پر توجہ کم ہوتی جارہی ہے وہاں اپوزیشن کیلئے موقع میسر ہے کہ وہ کچھ کرسکے-