
محمداعظم شاہد
7؍اکتوبر2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ غزہ پٹی میں بسے فلسطینیوں کے لئے تباہی کا باعث بنی۔ اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں تاحال73ہزار سے زائد فلسطینی غزہ میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔ امریکہ کی مداخلت کے باعث جو جنگ بندی اسرائیل اور حماس کے مابین ہوئی تھی، وہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ بالخصوص اسرائیل کی جارحیت مسلسل جاری ہے۔ جنگ بندی کا کسی بھی لحاظ سے اسرائیل کو پاس نہیں ہے اور نہ ہی وہ ضوابط اور جنگ بندی معاہدے کے اصولوں کا پابند رہا ہے۔ بلاوجہ بہانے تلاشنے کی عادی اسرائیلی فوج نے اپنی غیر ذمہ داری اور بے شرمی کی حدیں پارکرلی ہیں۔ غزہ کی 2.3ملین (23 لاکھ) کی آبادی میں90 فی صد لوگ بمباری اور حملوں کے باعث ملبہ میں تبدیل اپنے گھروں سے بے گھرہوگئے ہیں جوشہری آبادی کے علاقے تھے وہ اب مسمار شدہ عمارتوں کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ یہ علاقہ اب نہ رہائش کے قابل رہا اور نہ ہی یہاں اب کوئی امید بہتری کی نظرآرہی ہے۔ ہرطرف ملبہ، عمارتیں، سڑکیں، دوکانیں، اسپتال،دفتر، اسکول کالج جہاں زندگی وابستہ تھی اب وہاں صرف ویرانی چھائی ہوئی ہے۔90 فی صد سے زیادہ غزہ کے مکینوں کے لئے استعمال ہونے والی عوامی سہولیات تباہ ہوچکی ہیں۔ پناہ گزیں کیمپوں میں مصیبت زدہ فلسطینیوں کی بڑھتی تعداد اور خوراک کی کمی ویسٹ مینجمنٹ کی بگڑتی صورتحال سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ خصوصی طورپر جلد کے امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں اور زخمیوں کے علاج کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ڈاکٹروں اور دوائیوں کی قلت، بیرونی ممالک سے خیر سگالی رسد کی امدادی آمد پر پابندیاں جیسے مسائل نے غزہ میں عام زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔
اسرائیل نے اپنی فوج (آئی ڈی ایف) کو غزہ پٹی کو اپنے ماتحت رکھنے شدید پابندیاں لاگو کرنے اور عام لوگوں کی پریشانیوں میں آئے دن اضافہ کرنے کی ہدایتیں دی ہیں۔ عام شہریوں کی متنازعہ سرحدوں پرآمد ورفت کو مزید اورمشکل ترین بنانے کے نئے قوانین بنائے گئے ہیں۔ جب کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور بین الاقوامی اداروں نے اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پرکئی سوال اٹھائے ہیں اور جوابدہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے اپنے دفاع میں یہی کہا ہے کہ وہ حماس کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور غزہ میں عسکریت پسندی فوج کے خاتمے کے لئے وہ غزہ پر اپنا کنٹرول بنائے ہوئے ہے۔

ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی عمداً نسل کشی کے لئے غزہ پر اپنے حملوں کے ذریعہ فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے جنگی جرائم سے انسانیت کو شرمسار کیا ہے۔ بالخصوص مقبوضہ مغربی کنارے علاقے میں جو تباہی مچائی ہے وہ قابل مذمت ہے۔ رپورٹ میں یہ المناک انکشاف کیاگیا ہے کہ اب تک جتنے فلسطینی ہلاک (شہید) ہوئے ہیں، ان میں تقریباً 30فیصد بچے شامل ہیں۔ اسپتالوں میں بچوں کی ولادت، نگہداشت کی سہولیات میں خلل ڈالنے اسرائیل نے اسپتالوںکو اپنے حملوں سے نشانہ بنایا۔ حاملہ خواتین کو طبی امداد پہنچانے جو مسائل پیدا کئے گئے اس کے نتیجے میں بچوں کی ولادت اور بچوں کی معقول نگہداشت سے متعلق بھی مشکلات کے باعث نسل کشی کا منصوبہ بند طور پر اسرائیل نے ایکشن پلان بناکر بربریت کی نئی مذموم تاریخ رقم کی ہے۔ اس انکوائری رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ غزہ کو امدادی رسد کی فراہمی کی اسرائیل کی جانب سے روک تھام کی پابندیوں کے نتیجے میں دوائیوں اور کھانے پینے کی ضروری اشیاء کی قلت نے بچوں میں خوراک کی کمی، بھکمری، ٹیکہ کاری کی گرتی صورتحال کے پیش نظر بچوں کی گرتی صحت، پھیلتی بیماریاں اور موت کی شرح بڑھتی رہی۔ ابھی تین دن قبل جاری اس عالمی تفتیشی رپورٹ میں مذکورہ انکوائری کمیشن کے سربراہ سرینواسن مرلی دھرنے بتایاہے کہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے عمداً فلسطینیوں کی نسل کشی کی خاطر بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہاں تک کہ جب گزشتہ سال اکتوبر 2025میں جنگ بندی معاہدہ طے ہوا تھا، تب بھی اسرائیل نے متعلقہ معاہدے کی شرائط کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں پرحملے جاری رکھے، زخمی کیا اور ہلاکتوں میں اضافہ کرتا رہا،جو معاہدہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس پورٹ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی صورتحال پر اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بچاس ہزار سے زائد بچے اسرائیلی حملوں کی زد میں ہلاک ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسف نے بتایاہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جاری جنگ بندی معاہدے کے باوجود ہر روز اوسطاً ایک فلسطینی بچے اسرائیل کے جاری حملوں سے غزہ میں ہلاک ہوتا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ فلسطینی بچے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ فلسطینی بچے زخمی ہونے اور اپنی ہلاکتوں کے علاوہ اسرائیلی فوج نے انہیں گرفتارکرکے اسرائیلی قید خانوں میں ہرطرح کی اذیتیں دی ہیں، جن میں جنسی استحصال بھی شامل ہے۔گرفتاریاں اور قید خانوں میں فلسطینیوں کے ساتھ زیادتیاں یہ تو عام بات تھی، مگر بچوں کو بلاوجہ گرفتار کرنا اور انہیں ستانا یہ سب بڑھتا ہی جارہا ہے۔ فلسطینی تنظیم برائے تحفظ اطفال (ڈی سی آئی پی) نے کہاہے کہ اسرائیلی قید خانوں میں آدھے سے زیادہ گرفتار شدہ بچوں کو بغیر کسی جرم اور جرائم کے جبراً قید میں رکھاگیا ہے۔ مغربی کنارے اور آس پاس کے علاقوں کے تمام تعلیمی ادارے اور یتیم خانے بھی بمباری میں تباہ کردیئے گئے ہیں۔ انکوائری کمیشن نے اسرائیلی فوجی دستے جنہوں نے فلسطینی بچوں کو غزہ میں نشانہ بنایا ان کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پوری طرح بمباری اور حملے روک بھی دیئے گئے تب بھی غزہ میں فلسطینی بچے فوری طور پر اپنے معمولات کی جانب لوٹنے کے قابل نہیں رہ پائیں گے۔ جنگ کی تباہ کاریوں کا اس قدر گہرا اثر بچوں کی نفسیات پر ہوا ہے کہ انہیں نارمل ہونے میں بہت وقت درکارہوسکتا ہے۔اس مفصل رپورٹ کے اختتام پر کہاگیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو نشانہ بناکر فلسطینیوں کے جینے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کے حق اور صلاحیت کو ہی نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کی ہیں۔
غزہ کی از سرنو باز آباد کاری کے لئے جو عالمی منصوبہ بنایاگیا تھا وہ اسرائیل کی جابرانہ اور جارحانہ جنگی خلاف ورزیوں کے باعث روبہ عمل نہیں ہوسکا ہے۔ امریکہ کی کوشش ماند پڑگئی جب اس نے اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملے کئے اور ایک نئی جنگ شروع ہوگئی جو ابھی تک الگ الگ مراحل سے گزر رہی ہے۔ اسرائیل عالمی قوانین سے لاتعلق اور بے لگام ہوکر اپنے جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ لبنان پر آئے دن اسرائیلی حملے ، ایران کی امریکہ کے ساتھ جنگی بندی کی شرائط میں اسرائیل پر لبنان اور دیگر علاقوں پر حملوں کا تدارک بھی شامل ہے، مگر اسرائیل بے لگام غیر ذمہ داری سے ہر عالمی اصول کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ان حالات میں غزہ کے حالات اور وہاں بسنے والوں کی سسکتی زندگی اب عالمی توجہ سے اوجھل ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف یوکرین اور روس کی جاری جنگ، دوسری جانب اسرائیل کا غزہ پر کنٹرول کرنے کا منصوبہ اور جاری روزانہ حملے۔ ان سب پر اب تک جو کچھ معاہدہ ہوا ہے وہ سب کاغذی حدود میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلامی ممالک میں مسلکی مسائل سے آزاد صرف ایران ہی ایک ملک ہے جس نے دلیرانہ طورپر اسرائیل کے مظالم کے خلاف جم کر آواز اٹھائی ہے۔ جب کہ دیگر ممالک اپنی اپنی مصلحتوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ کی دوغلی پالیسیاں بھی ان حالات میی ذمہ دار ہیں۔ غزہ آج بھی اپنے حق کے لئے اپنے مظلموں کی آواز اٹھارہا ہے۔کون سن رہا ہے؟