
از: عبدالحلیم منصور
ہندوستانی سیاست میں بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جو وقتی سیاسی بیانات سے کہیں زیادہ گہرے، دیرپا اور دور رس اثرات رکھتے ہیں۔کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن اور آئینی جوابدہی کے حوالے سے اٹھایا گیا سوال بھی انہی مباحث میں شامل ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی تنازع معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کے مختلف پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ معاملہ دراصل ہندوستانی جمہوریت، آئین، قانون کی بالادستی اور عوامی احتساب کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔
پریانک کھرگے نے ایک نہایت سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ اگر اس ملک میں ایک چھوٹا سا خوانچہ فروش، ایک دکان دار، ایک این جی او، ایک ٹرسٹ، ایک مذہبی ادارہ، حتیٰ کہ ایک مندر بھی مختلف سرکاری قوانین اور ضابطوں کے تحت رجسٹریشن اور حساب کتاب کا پابند ہے تو پھر آر ایس ایس کس قانونی بنیاد پر خود کو ان تقاضوں سے مستثنیٰ سمجھتی ہے؟ وزیر داخلہ نے یہاں تک کہا کہ اگر آر ایس ایس کے پاس کوئی ایسی قانونی دستاویز یا آئینی بنیاد موجود ہے جو اسے خصوصی حیثیت فراہم کرتی ہے تو وہ اسے عوام کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ان کا مؤقف غلط ثابت ہو تو وہ معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے۔ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ اسے ایک ایسے شخص نے اٹھایا ہے جو ریاست کے امن و قانون کا ذمہ دار وزیر ہے۔ ایک وزیر داخلہ کی حیثیت سے پریانک کھرگے کا یہ مؤقف انتظامی، آئینی اور سیاسی تینوں حوالوں سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ صرف ایک جماعتی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی نظام کے ایک ذمہ دار عہدیدار کے طور پر جواب طلب کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ سوال کسی اپوزیشن رہنما نے نہیں بلکہ ایک برسر اقتدار ریاستی حکومت کے ذمہ دار وزیر نے اٹھایا ہے۔
اس بحث کا پس منظر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کوئی رجسٹرڈ ادارہ نہیں بلکہ ایک “Body of Individuals” یعنی افراد کے ایک مجموعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ آر ایس ایس کا موقف یہ رہا ہے کہ اس کی نوعیت روایتی تنظیموں سے مختلف ہے اور بعض عدالتی فیصلوں نے اس کے مخصوص قانونی تشخص کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم ناقدین کا سوال یہ ہے کہ اگر ایک تنظیم ملک کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی منظرنامے پر اتنا گہرا اثر رکھتی ہو تو اس کی ساخت، مالیاتی نظام اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے بارے میں عوام کو جاننے کا حق کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آر ایس ایس کو محض ایک سماجی یا ثقافتی تنظیم قرار دینا حقیقت کا مکمل بیان نہیں ہوگا۔ ملک کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت درجنوں تنظیمیں، طلبہ یونینیں، مزدور انجمنیں، مذہبی اور سماجی پلیٹ فارم کسی نہ کسی سطح پر اس کے نظریاتی دائرے سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ جب ایک ادارہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر قومی سیاست، پالیسی
سازی اور سماجی رجحانات پر اثر انداز ہو رہا ہو تو اس کی شفافیت اور جوابدہی کا سوال محض سیاسی مخالفت نہیں بلکہ جمہوری ضرورت بن جاتا ہے۔
اس پورے معاملے کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور حکومت ہند نے بعض شرائط کے تحت پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں 1975 کی ایمرجنسی کے دوران بھی تنظیم پر پابندی عائد کی گئی جبکہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی اس کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔ یہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ریاست اور آر ایس ایس کے تعلقات ہمیشہ سے ہندوستانی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل رہے ہیں۔
تاریخی ریکارڈ یہ بھی بتاتا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے اور قانونی قبولیت کے مختلف مراحل میں تنظیمی ڈھانچے، تحریری دستور اور ریاستی نگرانی کے سوالات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ تنازع کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پرانے اور حل طلب سوال کا تازہ اظہار ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر آر ایس ایس واقعی ایک غیر رجسٹرڈ ادارہ ہے تو اس کے مالی معاملات کس نوعیت کے ہیں؟ تنظیمی سطح پر فنڈنگ، جائیدادوں، عطیات اور مختلف سرگرمیوں کا حساب کتاب کس قانونی فریم ورک کے تحت انجام پاتا ہے؟ آر ایس ایس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی بیشتر سرگرمیاں اس سے وابستہ رجسٹرڈ اداروں اور تنظیموں کے ذریعے انجام پاتی ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق یہی نکتہ مزید وضاحت اور شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر آر ایس ایس خود کو ایک غیر رجسٹرڈ نظریاتی و سماجی تنظیم قرار دیتی ہے تو پھر اس کے زیر اثر یا اس سے وابستہ سینکڑوں تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ تعلق صرف نظریاتی ہے یا تنظیمی بھی؟ اگر تنظیمی ہے تو اس کی دستاویزی بنیاد کیا ہے؟ اور اگر محض نظریاتی ہے تو پھر مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے اس وسیع نیٹ ورک کی جوابدہی کا دائرہ کس طرح متعین کیا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ واضح قانونی اور انتظامی وضاحتوں سے دیا جانا چاہیے۔
پریانک کھرگے کی حالیہ مداخلت کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو صرف آر ایس ایس تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایک وسیع اصولی بحث کو جنم دیا ہے۔ کیا ہندوستان میں تمام بڑی سماجی، مذہبی، نظریاتی اور فلاحی تنظیموں کے لیے یکساں شفافیت کے معیارات ہونے چاہئیں؟ کیا قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے یا بعض اداروں کو تاریخی، سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ کی بنیاد پر خصوصی حیثیت حاصل ہونی چاہیے؟ اگر کوئی استثنا موجود ہے تو اس کی آئینی اور قانونی بنیاد کیا ہے؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر سرکاری تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں، مذہبی انجمنوں اور بیرونی امداد حاصل کرنے والی متعدد تنظیموں پر مختلف قوانین کے تحت سخت نگرانی کی گئی ہے۔ کئی اداروں کے ایف سی آر اے لائسنس منسوخ ہوئے، متعدد تنظیموں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی گئی اور ان کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ایسے حالات میں عوامی سطح پر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا جوابدہی اور شفافیت کا اصول سب کے لیے یکساں ہے یا مختلف اداروں کے لیے مختلف پیمانے اختیار کیے جا رہے ہیں؟
اس بحث کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے۔ آر ایس ایس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تنظیم نے گزشتہ ایک صدی کے دوران سماجی خدمت، قدرتی آفات میں امدادی کاموں، تعلیمی سرگرمیوں اور تنظیمی تربیت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر تنظیم کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ یہ مؤقف بھی اپنی جگہ قابل غور ہے اور ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی ادارے کی سماجی خدمات اسے عوامی احتساب سے بالاتر نہیں کر دیتیں۔
درحقیقت اس پوری بحث کا اصل مرکز آر ایس ایس نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔ جمہوری نظام میں طاقت، اثر و رسوخ اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت جتنی زیادہ ہو، جوابدہی کی ضرورت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی اصول حکومتوں، سیاسی جماعتوں، عدالتی اداروں، میڈیا ہاؤسز، مذہبی تنظیموں اور سماجی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کانگریس نے ماضی میں کئی مواقع پر آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف سخت بیانات دیے، لیکن عملی سطح پر ان کے خلاف بڑے قانونی اقدامات کم ہی دیکھنے میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا پریانک کھرگے کا موجودہ مؤقف محض سیاسی بیان ہے یا واقعی حکومت اس معاملے کو قانونی اور انتظامی سطح پر آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسی کے ساتھ یہ سوال کانگریس اور کرناٹک حکومت سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اگر آر ایس ایس کے بارے میں ان کے تحفظات واقعی اصولی نوعیت کے ہیں تو پھر اقتدار میں آنے کے بعد ان تحفظات کے ازالے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے گئے؟ جمہوری سیاست میں محض سوال اٹھانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان سوالات کو آئینی اور قانونی سطح پر منطقی انجام تک پہنچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر حکومتوں کی سنجیدگی کو پرکھا جاتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کرناٹک گزشتہ چند برسوں میں حجاب تنازع، مذہبی جلوسوں، فرقہ وارانہ کشیدگی اور شناخت کی سیاست کے متعدد مباحث کا مرکز رہا ہے۔ ایسے ماحول میں وزیر داخلہ کی جانب سے آر ایس ایس کی قانونی حیثیت اور جوابدہی کا سوال اٹھانا محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی اور نظریاتی مباحثے کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیان کے اثرات ریاستی سیاست سے آگے بڑھ کر قومی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پریانک کھرگے نے ایک ایسے موضوع کو قومی سطح پر دوبارہ زندہ کر دیا ہے جس پر طویل عرصے سے کھل کر بحث نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا سوال آر ایس ایس کے حامیوں اور مخالفین دونوں کو جواب دینے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل روح ہے کہ طاقتور ترین اداروں سے بھی سوال کیا جا سکے اور وہ سوال سیاسی دشمنی نہیں بلکہ عوامی مفاد کے تناظر میں پوچھے جائیں۔
آخرکار یہ معاملہ کسی ایک جماعت، ایک تنظیم یا ایک رہنما کا نہیں بلکہ اس اصول کا ہے کہ ہندوستان میں آئین سب سے بالاتر ہے یا نہیں۔ اگر آئین سب سے بالاتر ہے تو پھر اس کے سامنے سب برابر ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی تنظیم واقعی قانونی استثنا رکھتی ہے تو اس کی بنیاد واضح ہونی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جوابدہی اور شفافیت کے اصولوں کا اطلاق بلا امتیاز سب پر ہونا چاہیے۔ یہ شعر اس پوری بحث کی معنویت کو خوب واضح کرتا ہے:
سچ بات کہنے میں جو مصیبت ہو سو ہو
یہ حوصلہ بھی تو کسی کردار میں رہے
پریانک کھرگے کے حالیہ بیانات کی اصل اہمیت بھی یہی ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو قومی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے کہ کیا ہندوستان میں کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور، منظم یا بااثر کیوں نہ ہو، قانون اور عوامی جوابدہی سے بالاتر رہ سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف آر ایس ایس یا کانگریس کو نہیں بلکہ پورے ہندوستانی جمہوری نظام کو دینا ہوگا۔ یہی سوال آنے والے دنوں میں ہندوستانی سیاست، آئینی مباحث اور جمہوری احتساب کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔