
محمداعظم شاہد،بنگلور
ابھی چند دن قبل ہندوستان کے محکمۂ امورخارجہ نے یہ وضاحت پیش کی ہے کہ ہندوستانی شہریوں کے پاس موجود پاسپورٹ ان کی شہریت کا ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ محض بیرونی ممالک کے سفرکیلئے ایک ڈاکیومنٹ (دستاویز) ہے- اس وضاحتی بیان کے بعد پورے ملک میں تمام شہریوں میں ایک بے چینی پائی جارہی ہے – سب یہ محسوس کررہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ وہ ڈاکیومنٹ جس میں قومیت کے زمرے میں ہندوستانی ہونے کی تصدیق کی گئی ہو وہ بالآخر شہریت کا ثبوت کیوں نہیں مانا جائے؟ اس بیان سے عام شہریوں کی الجھنوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے- اس طرح سے ایک بار پھر شہریت کا مسئلہ اور معاملہ اب سرخیوں میں شامل ہوگیا ہے-گذشتہ سال پہلی بار جب (ایس آئی آر) ریاست بہار میں شروع ہوا، تب شہریت ثابت کرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ اگر کسی کے پاس راشن کارڈ اور دیگر دستاویزات نہیں ہیں تو پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی ثبوت مانا جائے -مگر اس کے باوجود ملک کے محکمۂ امور خارجہ کا اِس نوعیت کا بیان شہریوں کیلئے نئی الجھنوں کا باعث بنا ہوا ہے – یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں حکومت شہریت سے متعلق کسی بھی شہری کو کسی بھی طرح کا ڈاکیومنٹ (دستاویز) جاری نہیں کرتی -شہریت ثابت کرنے کیلئے اگر حکومت اصرار کرتی ہے کہ ثبوت کے طورپر متعلقہ دستاویزات پیش کرنا ضروری ہے تو یہ معاملہ مجموعی طورپر مشکل اورکٹھن ثابت ہوسکتا ہے -یہ اس لئے بھی کہ ملک میں متعلقہ دستاویزات کا تحفظ اتنا معقول نہیں ہے جتنا کہ دیگر ممالک میں دیکھا جاتا ہے- دراصل شہریت کا معاملہ حکومت اور عوام سے جڑا راست معاملہ ہے – مگر اس راست رشتہ میں عوام کا پلڑا کمزور اورحکومت کا بااثر ہوا کرتا ہے- شہریت سے متعلق اصول ومتعلقہ ضوابط جب ملک میں بنائے گئے تب بنیادی طورپر یہی نظریہ تھاکہ جو لوگ ملک کے جمہوری اقدار اور نظام میں اعتماد رکھتے ہیں وہ یہاں کے ہیں – یعنی پہلے شہریت کا معاملہ ایسا تھاکہ کون ہیں وہ جو ملک کے نہیں ہیں- وہ سب ایک طرح سے ملک کی قومیت کا حصہ ہیں جو ملک کے نظام حکومت اوراصول وضوابط کے پابند ہیں وہ ملک کے شہری ہیں -پہلے یہ نظریہ شمولیاتی تھا -مگر بتدریج اب خارجیتکا نظریہ بن گیا ہے – اس طرح ملک کی شہریت سے ملک میں بسنے والوں کو علاحدہ رکھا جائے -انہیں شہریت سے محروم کردیا جائے -اس طرح کے نئے قوانین گزرتے وقت کے ساتھ ملک میں رائج العمل ہوتے آرہے ہیں-

جو وسعت خیالی اور نظریہ ملک میں شہریت سے متعلق تھا اب وہ تنگ نظریات سے جوڑا جارہا ہے-اس کی ایک مثال دیتے ہوئے ماہر قانون فیضان مصطفیٰ نے کہا ہے کہ آسام میں غیر ملکی ٹری بیونلس نے ان شہریوں کو جن کے پاس ان کی رہائش اور قیام اور دیگر معاملات کے باوجود پندرہ اور اٹھارہ ثبوت تھے مگر انہیں ملک کا شہری نہیں مانا گیا – یہاں تک کہ عدلیہ نے بھی یہی تنگ نظری کا رویہ اپنایا -پہلے ملک کے سپریم کورٹ میں شہریت سے متعلق کئی مقدمات کی سماعت ہوئی اور فیصلے بھی روشن خیالی اور وسعت آمیز نظریات کی روشنی میں لئے گئے تھے-ان دنوں شہریت سے متعلق جمہوری نظام کے قوانین آئین کی آزاد خیالی پر مبنی ہوا کرتے تھے-مگر سال 2000 کے بعد اوراس سے قبل بھی ملک میں عدلیہ نے ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ اور پاسپورٹ کو شہریت کا دستاویزی ثبوت نہیں مانا ہے – اس لئے اب محکمۂ امور خارجہ نے جو وضاحت پیش کی ہے اس کو سابقہ عدالتی فیصلوں سے جوڑ کر دیکھا جائے تو تعجب نہیں ہوناچاہئے- مگر جن دستاویزات کو خود حکومت کے متعلق محکمہ جات تفتیش اورتحقیقات کے بعد جاری کرتے ہیں وہی اب قبولیت کے دائرے سے باہر سمجھے جارہے ہیں تو یہ معاملات تشویشناک رخ اختیار کررہے ہیں- اس ضمن میں آئین کے اہم مرتب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا وہ قول بھی یاد کرنا ضروری ہے کہ جب انہوں نے کہاتھاکہ شہریت کا معاملہ، اس کے اصول وضوابط طے کرنا آئین کی ڈرافٹنگ کمیٹی کیلئے بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ بن گیا تھا- مگر آئین یا دستور کی دفعہ پانچ کے تحت یہ معقول نظریہ اختیار کیا گیا کہ جو ملک (ہندوستان) میں پیدا ہوا وہ یہاں (ملک ) کا شہری ہے -مگر جب آئین مرتب اور منظور ہوا تب کہا گیا کہ جو 26 جنوری 1950 میں ملک کا شہری ہے -مگر مستقبل کیلئے دفعہ گیارہ نے ملک کے پارلیمان کو شہریت سے متعلق قانون بنانے کا اختیار دے دیا – اس طرح 1955 میں پہلی بار شہریت قانون بنا جو آئین میں شامل ابتدائی ضوابط پر مشتمل تھا اور سال 1986 کے آتے آتے آئین کی دفعہ پانچ میں شہریت کے حوالے سے جو معقولیت تھی وہ گھٹتی گئی- آسام میں بنگلہ دیشی دراندازوں کا مسئلہ گرمایا گیا – یہ فیصلہ لیا گیا کہ کسی بھی فرد کا ملک میں جنم لینا ہی کافی نہیں بلکہ والدین میں سے کسی ایک کا ہندوستانی ہونا ضروری ہے – بعد میں سال 2003 میں واجپائی حکومت نے شہریت سے متعلق یہ فیصلہ لیا کہ ملک میں پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کے والدین دونوں ہی ہندوستانی ہوں- اگر صرف ایک ہندوستانی ہے تو والدین میں دوسرا شخص کسی بھی طرح سے غیرقانونی طورپر ملک میں گھس آیا نہ ہو- سال 2019 میں مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون بنایا، مگر پانچ سال تک اس کا اعلان نہیں کیا -2024 میں انتخابات سے قبل نوٹی فائی (اعلان) کیا گیا -2025 میں ایس آئی آر کا مدعا شروع ہوا -پہلے بہار میں پھر 2026 میں بنگال اور دوسری ریاستوں میں اس کا آغاز ہوا- یہاں بھی شہریت اور شناخت کا معاملہ الجھایا گیا – واضح رہے کہ نئے قانون کے تحت جن کے پاس متعلقہ دستاویزات موجود نہیں ہیں ان کے نام لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ووٹر لسٹ سے حذف کئے گئے- سپریم کورٹ نے بہار ایس آئی آر معاملہ میں فیصلہ سنایا تھاکہ پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت کا دستاویز ہے-مگر اس کے باوجود 2019 میں آسام میں ( این آر سی) کے تحت جو سپریم کورٹ کی نگرانی میں کیا گیا اس میں 19 لاکھ شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہوئے-مگر ان 3 کروڑ گیارہ لاکھ لوگوں کو جن کی شہریت ثابت ہوچکی تھی اب تک یعنی سات سال گذر جانے کے بعد بھی انہیں شہریت کی کسی بھی طرح کی دستایزحکومت کی جانب سے جاری نہیں کی گئی ہے – ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں شہریت کے معاملے کو سیاست سے جوڑا جارہا ہے- سال 1987 سے پہلے ملک میں پیدا ہونے والوں کیلئے شہریت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے -مگر اس کے بعد پیدا ہونے والوں کو اپنی اور اپنے والدین کی شہریت بھی ثابت کرنا پڑے گی- عام شہری جو مزدور طبقہ سے ہیں اورمفلوک الحال ہیں وہ دستاویزات پیش کرنے سے مجبور ہوں گے-ان حالات میں خدشہ ہے کہ ملک میں 35 یا 40 کروڑ لوگ اپنی شہریت ثابت نہیں کرپائیں گے-ایس آئی آر معاملے میں شہریت کا مسئلہ ابھی قطعی نہیں ابھرکر آیا ہے-سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزارت داخلہ سے رجوع ہوکر مسائل سے نمٹنے کیلئے کہا ہے -مگر چند ریاستوں میں جن شہریوں کے نام SIR میں شامل نہیں ہیں انہیں حکومت کی فلاحی اسکیموں سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے